ادا جعفری کا نام اردو ادب کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے، کیونکہ انہیں متفقہ طور پر "اردو غزل کی پہلی خاتون" (First Lady of Urdu Poetry) تسلیم کیا جاتا ہے۔ 22 اگست 1924 کو بدایوں (بھارت) کے ایک انتہائی قدامت پسند اور روایتی گھرانے میں پیدا ہونے والی عزیز جہاں (جو بعد میں ادا جعفری بنیں) نے اس وقت شاعری شروع کی جب عورتوں کا اپنے جذبات کا اظہار کرنا، بالخصوص غزل جیسی صنف میں، انتہائی معیوب اور بغاوت سمجھا جاتا تھا۔ اس دور میں اگر کوئی عورت لکھتی بھی تھی تو اسے مردانہ نام (Pen name) استعمال کرنا پڑتا تھا یا پھر اس کی شاعری میں روایتی مردانہ لب و لہجہ ہوتا تھا۔ ادا جعفری نے اس روایت کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک خالص نسوانی آواز دی اور ثابت کیا کہ عورت کا احساس اور اس کی تنہائی کسی بھی طرح مرد کے احساس سے کم تر نہیں ہے۔
ادا جعفری نے جب بارہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا تو انہوں نے اپنا تخلص 'ادا بدایونی' رکھا۔ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں بچیوں کی تعلیم تو دور کی بات، ان کے بلند آواز میں بات کرنے پر بھی پابندی تھی۔ انہوں نے اپنی سوانح حیات "جو رہی سو بے خبری رہی" میں اس گھٹن اور سماجی پابندیوں کا نہایت دردناک انداز میں ذکر کیا ہے۔ 1947 میں نورالحسن جعفری سے شادی کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئیں اور اپنا نام 'ادا جعفری' رکھ لیا۔ ان کے شوہر نے، جو خود ایک پڑھے لکھے سرکاری افسر تھے، ادا کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور ان پر لگی ہوئی روایتی پابندیوں کو توڑنے میں ان کا ساتھ دیا۔ ادا کی شاعری کسی کھلی ہوئی بغاوت یا نعرے بازی کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک انتہائی دھیمی، شائستہ اور گہری چوٹ تھی جو سیدھی دل پر لگتی تھی۔
"ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے"
غزل کی صنف روایتی طور پر مردوں کی جاگیر سمجھی جاتی تھی، جہاں عاشق (مرد) اپنے محبوب (عورت) کے حسن، اس کی بے رخی اور اس کی زلفوں کے قصے بیان کرتا تھا۔ ادا جعفری نے اس پیمانے کو الٹ دیا۔ انہوں نے عورت کو ایک محض 'محبوب' یا 'خوبصورت شے' کے درجے سے نکال کر اسے ایک سوچنے، محسوس کرنے اور درد سہنے والے 'انسان' کے طور پر پیش کیا۔ ان کی شاعری میں ایک عورت کی تنہائی، سماج کی منافقت، رشتوں کی پیچیدگی اور ایک خاموش سی اداسی نمایاں نظر آتی ہے۔ ادا کی غزلوں میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، وہ سیدھے سادے الفاظ میں عورت کے اس درد کو بیان کرتی تھیں جسے صدیوں سے دبایا گیا تھا۔
"میں ساز ڈھونڈتی رہی اور تار ٹوٹتے گئے
میں گیت گا نہ سکی، لوگ روٹھتے گئے"
ادا جعفری کا سفر صرف ذاتی دکھوں تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے 1947 کے فسادات، ہجرت کے کرب اور نئے ملک میں بننے والے معاشرتی حالات پر بھی نہایت گہری اور حساس شاعری کی۔ ان کا لہجہ ہمیشہ دھیما اور وقار سے بھرا رہا، لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے طوفان کو صرف ایک حساس قاری ہی محسوس کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی ایوارڈز جیتے جن میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس (Pride of Performance) بھی شامل ہے۔ ادا جعفری نے اردو غزل کی دنیا میں جو راستہ بنایا، اسی راستے پر بعد میں پروین شاکر، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید جیسی عظیم شاعرات نے سفر کیا۔ 12 مارچ 2015 کو 90 برس کی عمر میں کراچی میں ان کا انتقال ہوا، لیکن اردو غزل کے ماتھے پر ان کا نام ایک روشن ستارے کی طرح ہمیشہ چمکتا رہے گا۔