سید اکبر حسین، جنہیں دنیا اکبر الہ آبادی کے نام سے جانتی ہے، اردو ادب میں طنز و مزاح (Satire and Humor) کے سب سے بڑے اور ناقابلِ تسخیر ستون مانے جاتے ہیں۔ 16 نومبر 1846 کو الہ آباد کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہونے والے اکبر نے اس دور میں آنکھ کھولی جب برصغیر ایک زبردست تاریخی، سیاسی اور ثقافتی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا تھا۔ انہوں نے 1857 کی جنگِ آزادی اور اس کے بعد مغل سلطنت کا مکمل زوال اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اکبر کی زندگی ایک عجیب اور دلچسپ تضاد کا شکار تھی۔ ایک طرف وہ برطانوی حکومت کے ایک اعلیٰ اور وفادار سرکاری ملازم تھے، جو اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر سیشن جج کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے اور حکومت کی طرف سے 'خان بہادر' کا خطاب بھی پایا۔ لیکن دوسری طرف، ان کے سینے میں ایک ایسا مشرقی اور روایتی دل دھڑکتا تھا جو ہندوستانیوں کو اندھا دھند مغربی تہذیب (Western Culture) کی نقل کرتے دیکھ کر خون کے آنسو روتا تھا۔
اکبر کی شاعری دراصل اس 'نئی تہذیب' کے خلاف ایک اعلانِ جنگ تھی۔ ان کا سب سے بڑا نشانہ وہ طبقہ تھا جو انگریزی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے مذہب، اپنی روایات اور اپنی مشرقی اقدار کو حقیر سمجھنے لگا تھا۔ اس معاملے میں ان کا سب سے بڑا نظریاتی اختلاف سر سید احمد خان کی 'علی گڑھ تحریک' سے تھا۔ سر سید کا ماننا تھا کہ مسلمانوں کی بقا صرف انگریزی تعلیم اور مغربی طرزِ زندگی اپنانے میں ہے، جبکہ اکبر کا ماننا تھا کہ تعلیم ضرور حاصل کرو، لیکن اپنی روح کو انگریز کے ہاں گروی مت رکھو۔ انہوں نے اپنی شاعری میں انگریزی الفاظ جیسے 'کونسل'، 'نیشن'، 'ووٹر'، 'سوٹ' اور 'مس' کا نہایت خوبصورتی اور طنزیہ انداز میں استعمال کیا، جس نے اردو شاعری میں ایک بالکل نئی صنف کو جنم دیا۔ ان کا طنز اتنا گہرا اور کاٹ دار ہوتا تھا کہ پڑھنے والا ہنستے ہنستے اچانک سنجیدہ ہو کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔
"چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر سکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا"
اس شعر میں اکبر نے اس غلامانہ ذہنیت پر بھرپور چوٹ کی ہے جو صرف کلرک بننے اور انگریز کی خوشنودی حاصل کرنے کو ہی زندگی کی معراج سمجھتی تھی۔ ان کا کمال یہ تھا کہ وہ بغاوت کا سبق نہایت شائستہ اور مزاحیہ انداز میں دیتے تھے۔ اکبر کا یہ بھی ماننا تھا کہ نئی تعلیم انسان کو مادیت پرست (Materialistic) بنا رہی ہے، جہاں روحانیت اور سچے رشتوں کی کوئی جگہ نہیں بچی۔ انہوں نے عورتوں کی اندھی آزادی اور پردے کے خاتمے پر بھی سخت تنقید کی، کیونکہ ان کے نزدیک یہ آزادی دراصل عورت کو ایک نمائش کی چیز بنانے کی مغربی سازش تھی۔
"رقيبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں"
اکبر الہ آبادی کی ذاتی زندگی ان کی مزاحیہ شاعری کے بالکل برعکس، بے پناہ دکھوں اور المیوں کا شکار تھی۔ جس مغربی تہذیب پر وہ تاحیات تنقید کرتے رہے، قدرت کا مذاق دیکھیے کہ ان کا اپنا بیٹا عشرت حسین اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلا گیا اور وہیں کی تہذیب میں رنگ گیا۔ بیٹے کی اس دوری اور بعد میں جواں سالی میں اس کی موت نے اکبر کو اندر سے مکمل طور پر توڑ کر رکھ دیا۔ اس کے بعد ان کی بیوی کا بھی انتقال ہو گیا، جس نے انہیں شدید تنہائی اور اداسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ ہنسنے ہنسانے والے اکبر سے ایک انتہائی غمگین اور گوشہ نشین انسان بن چکے تھے۔ 9 ستمبر 1921 کو بخار اور کمزوری کی حالت میں اس عظیم طنز نگار نے دنیا کو الوداع کہا۔ اکبر آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ آج کا معاشرہ بھی اسی طرح مغرب کی اندھی تقلید کا شکار ہے جس کی پیشین گوئی اکبر نے سو سال پہلے کر دی تھی۔
Urdu adab ke sunehre daur ki kahaniyan, azeem shayaron ke posheeda qisse, aur unki zindagiyon ke naye pehlu ek hi jagah.
Background sound chalu rahega jab tak aap band na karein.
Test your knowledge of Urdu poetry! 10 random questions will be asked. Pass the test to earn a premium Certificate of Excellence.
Your Score: 10/10
Congratulations! You have earned the Certificate.
You need at least 7/10 to earn the certificate.
This proudly certifies that
has successfully demonstrated exceptional knowledge of Urdu literature, classical poetry, and Adab by passing the Aazmaish evaluation with distinction.
(Swipe left or right to see the full certificate)
Apna sher likhne par 20 pts, options chunne par 10 pts.
Aapka Score
Top 10 Khiladiyon Ka Darbar
'Save' karne par yeh sirf aapke phone mein rahega.
'Send' karne par Admin ke paas jayega.
Is lafz ki mukammal tareekh aur tafseel ke liye muntakhib karein:
Yeh sher kisko dedicate karna chahte hain?
Aapke liye ek sher bheja gaya hai...
Diwan E Sukhan ko ad-free aur azaad rakhne ki is adabi koshish mein humsafar banein. Aapka ta'awun qabil-e-qadar hai.
Diwan E Sukhan ke hazaron padhne walon tak apna paigham pohnchayein. Yeh khaas jagah premium brands aur karobar ke liye banayi gayi hai.
(TAP TO LEARN MORE!)
Ishtehaar Ke Liye Rabta Karein
Greetings. I am Athar Aalam. Diwan E Sukhan represents a delicate intersection of my core pursuits: the profound depths of classical Urdu poetry, the nuanced insights of human psychology, and the clean elegance of modern digital design. This platform is a humble endeavor to give aesthetic form to timeless emotions and wisdom.
Diwan E Sukhan ke hawale se apni koi tajweez (suggestion) dein ya apna likha hua kalaam website par shamil karne ke liye bhejein.