DIWAN-E-SUKHAN • Athar Aalam

اطہر عالم: دیوانِ سخن کا معمار، جہاں نفسیات اور اردو ادب ایک ہو جاتے ہیں

میرا نام اطہر عالم ہے، اور دیوانِ سخن محض ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ میری زندگی کے نشیب و فراز، میرے بچپن کے خوابوں اور ان تمام مہربان ہستیوں کی محبت کا ایک جیتا جاگتا شاہکار ہے جنہوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا۔ میری پیدائش 15 مارچ 2002 کو ممبئی میں ہوئی، لیکن میری جڑیں بہار کے ضلع مدھوبنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں 'اسراہی' میں پیوست ہیں۔ میری پیدائش کے کچھ سال بعد میرے گھر والے گاؤں چلے گئے، اور میں 7-8 سال کی عمر تک وہیں رہا۔ جب ہم دوبارہ ممبئی آئے، تو ایک دو سال تو میں نے یونہی کھیل کود میں گزار دیے۔ 10-12 سال کی عمر تک مجھے صحیح سے پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا۔ پھر میرے گھر والوں نے مجھے مکتب بھیجنا شروع کیا، اور وہیں میری ملاقات ایک ایسی خاص لڑکی سے ہوئی جس نے میری زندگی کا رخ موڑ دیا۔

اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔ مکتب کے بعد میں اس کے گھر کھیلنے اور ٹی وی پر کارٹون دیکھنے جایا کرتا تھا۔ اس کا بڑا بھائی اکثر بچوں کے رسالے جیسے 'گل بوٹے' اور 'بچوں کی دنیا' لایا کرتا تھا۔ وہ رنگ برنگی تصویروں اور کہانیوں والی کتابیں مجھے اتنی دلکش لگتی تھیں کہ میں انہیں دیکھتے دیکھتے، اور اس لڑکی کی لگن سے متاثر ہو کر، دھیرے دھیرے خود بھی پڑھنا سیکھنے لگا۔ پھر ایک دو سال بعد، جب میری عمر شاید 13-14 سال رہی ہوگی، مجھے اسکول میں ایڈمیشن کے لیے لے جایا گیا۔ چونکہ مجھے صحیح سے پڑھنا نہیں آتا تھا، اس لیے مجھے میری عمر کے حساب سے چھوٹی کلاس، یعنی چوتھی جماعت (4th Standard) میں بٹھا دیا گیا۔ میں خوشی خوشی اس لڑکی کی کلاس میں جا کر بیٹھ گیا کہ ہم ساتھ پڑھیں گے، لیکن جب اس نے بتایا کہ میری کلاس دوسری ہے اور میں اس سے ایک کلاس آگے ہوں، تو میرا دل بہت اداس ہوا۔

میری باقاعدہ اسکولی تعلیم گوونڈی (رفیع نگر) کے 'بی ایم سی اردو اسکول' (میونسپل اردو میڈیم اسکول) سے شروع ہوئی۔ اس اسکول کا ذکر میرے لیے بہت خاص ہے، کیونکہ یہیں مجھے ایسے عظیم اساتذہ ملے جنہیں میں مرتے دم تک نہیں بھلا سکتا۔ سب سے پہلے 'عادل سر' کا نام آتا ہے۔ چھٹی کے بعد ہم جیسے کمزور بچے، جنہیں پڑھنا نہیں آتا تھا، کلاس کے باہر ایک دری بچھا کر بیٹھ جاتے اور عادل سر ہمیں انتہائی شفقت سے پڑھنا سکھاتے۔ پھر چھٹی جماعت میں مجھے مدرسے کی تعلیم کا شوق پیدا ہوا۔ میں اسکول بھی کرتا پاجامہ پہن کر جانے لگا (جس کی اجازت صرف مجھے تھی)۔ ایک وقت آیا کہ میں نے اسکول جانا ہی بند کر دیا کہ اب صرف مدرسے میں پڑھوں گا۔ تب میری کلاس کے ٹیچر 'شبیر سر' میرے گھر آئے، میرے گھر والوں سے بات کی اور مجھے سمجھایا کہ آج کے دور میں دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم ضروری ہیں۔ ان کی شفقت نے مجھے دوبارہ اسکول لوٹنے پر مجبور کیا۔

ساتویں جماعت میں اسی بی ایم سی اسکول میں میرا تعارف 'محسن ساحل سر' سے ہوا۔ وہ دوپہر کی شفٹ میں پڑھاتے تھے اور میں صبح کی شفٹ میں تھا۔ جب 12:30 بجے ہماری چھٹی ہوتی، تو وہ کبھی کبھی جلدی آ جاتے تھے۔ وہ کلاس میں شعر و شاعری اور ادب کی باتیں کرتے، اور مجھے ان کی باتیں سننا بہت اچھا لگتا تھا۔ دھیرے دھیرے میں ان سے شاعری پر باتیں کرنے لگا۔ سر نے مجھے ہر موقع کے لیے 3 سے 4 ہزار اشعار یاد کرنے کا ہدف دیا۔ مجھ سے پورا تو نہیں ہو پایا، لیکن میں روزانہ 5، 10 یا 15 اشعار یاد کر کے انہیں سناتا۔ وہ بہت خوش ہوتے اور مجھے بھی بے حد خوشی ملتی۔ یہیں سے میرے اندر اردو ادب کا بیج بویا گیا، اور پھر جونیئر کالج کے زمانے میں، میں نے اکبر الہ آبادی کے ایک مصرعے سے متاثر ہو کر اپنی پہلی غزل لکھی۔ یہاں میں نے صرف تین اساتذہ کا ذکر کیا ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ میرے ہر ایک استاد نے میری زندگی سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں ان تمام اساتذہ کا بے حد احترام کرتا ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں۔ آٹھویں تک بی ایم سی اسکول میں پڑھنے کے بعد، میں نے نویں اور دسویں جماعت گوونڈی کے ہی 'جوہر اردو ہائی اسکول' سے پاس کی۔

دسویں کے بعد میں نے مہاراشٹر کالج، ناگپاڑہ میں آرٹس میں داخلہ لے لیا۔ میں اردو کا پروفیسر بننا چاہتا تھا، لیکن گیارہویں میں جب میرا سامنا 'نفسیات' (Psychology) سے ہوا، تو میری دنیا بدل گئی۔ میں نے طے کر لیا کہ ان شاء اللہ مجھے ایک ماہرِ نفسیات (Psychologist) ہی بننا ہے۔ اس دوران مجھے اسلامک اسٹڈیز کا بھی بے حد شوق تھا۔ بارہویں کے بعد میں نے ممبئی یونیورسٹی کے آئیڈول (IDOL - Distance Education) سے پلین سائیکالوجی میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ممبرا کے جامعہ ابنِ عباس میں عالمیت کے پہلے سال میں بھی ایڈمیشن لے لیا۔ میں وہاں تقریباً ایک سال تک رہا، لیکن یونیورسٹی کے امتحانات اور مدرسے کی پڑھائی آپس میں ٹکرا رہی تھی۔ مدرسے میں بہت وقت دینا پڑتا تھا اور مجھے وہاں رہ کر پڑھنے کی عادت نہیں تھی، کیونکہ بچپن میں، میں گھر سے ہی مکتب جایا کرتا تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مدرسے میں موبائل فون کی اجازت نہیں تھی اور میری کالج کی ساری پڑھائی موبائل پر ہی منحصر تھی۔ جب یہ سب سنبھالنا مشکل ہو گیا، تو میں نے مفتی صاحب سے بات کی۔ انہوں نے سمجھایا کہ فی الحال کسی ایک چیز پر فوکس کرو، اور چونکہ میرا پس منظر کالج کی تعلیم کا رہا ہے، اس لیے کالج کی پڑھائی میرے لیے زیادہ آسان رہے گی۔ میں نے جیسے تیسے عالمیت کا پہلا سال تو نکال لیا اور پھر کالج کی پڑھائی میں لگ گیا۔ میرا کالج کا فرسٹ ایئر تو اچھے CGPA سے کلیئر ہو گیا تھا، لیکن مدرسہ اور کالج کے اسی ٹکراؤ اور ٹائمنگ کی گڑبڑی کی وجہ سے، مجھے سیکنڈ ایئر میں 3 سے زیادہ KTs لگ گئیں۔ ان KTs کو کلیئر کرنے میں میرا کافی وقت برباد ہوا۔ بہت سوچنے کے بعد میں نے ریگولر کالج میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا اور کئی سالوں بعد دوبارہ مہاراشٹر کالج پہنچا۔

لیکن مہاراشٹر کالج میں نفسیات میجر نہیں تھا۔ میں نے ممبئی سینٹرل کے نونیت (Navneet) کالج کا رخ کیا۔ میرے کلیئر ہو چکے رزلٹ کی بنیاد پر انہوں نے مجھے سیدھے تیسرے سال (TYBA) میں داخلے کی پیشکش کی، لیکن چونکہ میری بنیاد کمزور تھی، اس لیے میں نے اپنی مرضی سے دوسرے سال (SYBA) میں داخلہ لیا۔ آج الحمدللہ سب کچھ بہترین چل رہا ہے۔ میں بی اے سائیکالوجی آنرز کے آخری سال میں ہوں۔ ان سب کے بیچ، میں نے دس ماہ قبل ایک لیپ ٹاپ لیا، اور پھر چار ماہ بعد اپنے بچپن کے اس خواب کی بنیاد رکھی کہ میری اپنی ایک ویب سائٹ ہو۔ میں اکثر 'ریختہ' پڑھا کرتا تھا، لیکن دل میں ایک کسک تھی کہ نئی نسل کے لیے ایک ایسا جدید اور منفرد پلیٹ فارم بناؤں جو اردو ادب کو ایک نئے اور پرکشش انداز میں پیش کرے۔ دیوانِ سخن کی تعمیر کا سفر کسی جنون سے کم نہیں تھا۔ میں نے اپنا سارا وقت اس پر نچھاور کر دیا۔ اگرچہ روزانہ نہیں، لیکن بیشتر دنوں میں، میں 15 سے 16 گھنٹے لگاتار صرف اسی پر کام کرتا تھا۔ کئی بار تو دن اور رات کا فرق ہی مٹ جاتا، اور نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہتی۔ آج یہ ویب سائٹ صرف ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہیں، بلکہ میری اسی دیوانگی، انتھک محنت اور بچپن کے خواب کی وہ حسین تعبیر ہے جو 'دیوانِ سخن' کے روپ میں آپ کے سامنے ہے۔

Aur Shayari Padhein →
Message
×