سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر ہندوستان کے آخری مغل شہنشاہ تھے۔ اگرچہ انہیں تاریخ ایک کمزور حکمران کے طور پر جانتی ہے جس کی سلطنت صرف دہلی کے لال قلعے تک محدود تھی، لیکن اردو ادب کی تاریخ میں ان کا مقام ایک نہایت اعلیٰ، حساس اور درد بھرے شاعر کا ہے۔ ظفر کی پیدائش 24 اکتوبر 1775 کو ہوئی، اور جب وہ تخت نشین ہوئے، تو ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا مکمل تسلط قائم ہو چکا تھا۔ ظفر کی دلچسپی سیاست اور جنگ و جدل میں کم، اور فنونِ لطیفہ، مشاعروں اور تصوف میں زیادہ تھی۔ ان کا دربار اردو شاعری کا سب سے بڑا مرکز تھا، جہاں مرزا غالب، ابراہیم ذوق اور مومن خاں مومن جیسے نابغہ روزگار شاعر ایک ہی چھت کے نیچے موجود تھے۔
ان کی زندگی کا سب سے المناک باب 1857 کی جنگِ آزادی (غدر) کے ساتھ شروع ہوا۔ جب میرٹھ سے باغی سپاہی دہلی پہنچے، تو انہوں نے 82 سالہ بوڑھے بہادر شاہ ظفر کو اپنا بادشاہ اور ہندوستان کا قائد تسلیم کر لیا۔ ظفر نے نہ چاہتے ہوئے بھی اس بغاوت کی سرپرستی قبول کر لی۔ لیکن یہ جنگ آزادی ناکام ہو گئی اور انگریزوں نے پوری طاقت کے ساتھ دہلی پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ لال قلعہ، جو صدیوں سے مغلوں کی شان و شوکت کا نشان تھا، انگریزوں کی چھاؤنی میں بدل گیا۔ بہادر شاہ ظفر نے ہمایوں کے مقبرے میں پناہ لی، جہاں سے میجر ہڈسن نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ باب ہے۔ انگریزوں نے بادشاہ کے بیٹوں اور پوتوں کو ان کے سامنے گولیاں مار دیں اور ایک روایت کے مطابق ان کے کٹے ہوئے سر ایک تھال میں سجا کر بوڑھے بادشاہ کے سامنے پیش کیے گئے۔
"لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں"
گرفتاری کے بعد، بہادر شاہ ظفر پر بغاوت کا مقدمہ چلایا گیا اور انہیں ہمیشہ کے لیے رنگون (برما، موجودہ میانمار) جلاوطن کر دیا گیا۔ رنگون کی وہ قید بادشاہ کے لیے ایک جیتا جاگتا جہنم تھی۔ ایک ایسا شہنشاہ جس نے اپنی ساری زندگی لال قلعے کے مخمل اور ریشم میں گزاری تھی، اسے لکڑی کے ایک چھوٹے سے کھولی نما کمرے میں قید کر دیا گیا۔ انہیں قلم اور کاغذ تک استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ روایت ہے کہ بادشاہ اپنے دکھ کو ہلکا کرنے کے لیے جلی ہوئی ماچس کی تیلیوں اور کوئلے سے قید خانے کی دیواروں پر اپنی غزلیں لکھا کرتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی شاعری محض الفاظ نہیں بلکہ ان کے دل سے نکلنے والی وہ آہ تھی جس نے بعد ازاں تاریخ کو رلا دیا۔
"کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں"
اپنی جلاوطنی کے دوران، ظفر کی سب سے بڑی آرزو صرف اتنی تھی کہ انہیں مرنے کے بعد اپنے محبوب شہر دہلی کی مٹی نصیب ہو جائے اور انہیں وہیں دفن کیا جائے۔ لیکن قسمت نے ان کا یہ آخری خواب بھی چھین لیا۔ 7 نومبر 1862 کو، 87 برس کی عمر میں، ہندوستان کا آخری تاجدار بیماری اور کسمپرسی کی حالت میں رنگون کے اسی قید خانے میں انتقال کر گیا۔ انگریزوں کو اس بات کا اتنا خوف تھا کہ ظفر کی قبر بغاوت کا نشان نہ بن جائے، اس لیے انہیں رات کے اندھیرے میں بغیر کسی جنازے یا پروٹوکول کے دفن کر دیا گیا اور زمین کو بالکل برابر کر دیا گیا۔ آج بہادر شاہ ظفر کا لال قلعہ تو سیاحوں کی ایک سیر گاہ بن چکا ہے، لیکن ان کی لکھی ہوئی غزلیں ان کے اس دکھ کی زندہ گواہ ہیں جو تخت چھن جانے اور اپنے وطن سے دور مرنے کے بعد انہیں سہنا پڑا۔