DIWAN-E-SUKHAN • Bashir Badr

بشیر بدر: روزمرہ کی زبان کو شاعری کا روپ دینے والا عظیم غزل گو

ڈاکٹر بشیر بدر جدید اردو غزل کا ایک ایسا روشن ستارہ ہیں جنہوں نے مشکل اور ثقیل الفاظ کے بجائے روزمرہ کی بول چال کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ 15 فروری 1935 کو پیدا ہونے والے سید محمد بشیر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہیں سے اپنے ادبی سفر کو پروان چڑھایا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے غزل کو خواص کی محفلوں سے نکال کر عوام کے دلوں تک پہنچایا۔ ان کے اشعار اتنے سادہ اور دلکش ہوتے ہیں کہ وہ عام آدمی کی زندگی، محبت اور معاشرے کے رویوں کی سیدھی سادی تصویر پیش کرتے ہیں۔

بشیر بدر کی زندگی میں ایک ایسا اندوہناک موڑ آیا جس نے ان کی شخصیت اور شاعری دونوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ 1987 کے میرٹھ کے فسادات میں ان کا گھر جلا دیا گیا، جس میں ان کی زندگی بھر کی کمائی، ہزاروں کتابیں اور ان کا قیمتی غیر مطبوعہ کلام بھی راکھ ہو گیا۔ اتنے بڑے سانحے اور اپنی برسوں کی محنت کو خاک میں ملتے دیکھنے کے باوجود، انہوں نے اپنے قلم کو نفرت کا ہتھیار نہیں بننے دیا، بلکہ ان کی شاعری میں ایک گہرا دکھ، رشتوں کی نزاکت اور انسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کا درد شامل ہو گیا۔

"دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں"

بشیر بدر کو ان کی بے مثال ادبی خدمات پر حکومتِ ہند کی جانب سے 'پدم شری' اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا گیا۔ زندگی کے آخری حصے میں وہ ڈیمنشیا (یادداشت کھو جانے کی بیماری) کا شکار ہو گئے اور بھوپال میں مقیم رہے، جہاں وہ اپنی ہی لکھی ہوئی غزلیں بھول گئے۔ لیکن ان کے لکھے ہوئے الفاظ آج بھی مشاعروں، کتابوں اور لاکھوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں سکھاتی ہے کہ نئے مزاج کے اس شہر میں فاصلے بھلے ہی بڑھ جائیں، لیکن دلوں میں محبت کی گنجائش ہمیشہ باقی رہنی چاہیے۔

Aur Shayari Padhein →
Message
×