فیض احمد فیض، بیسویں صدی کے سب سے مقبول اور بااثر اردو شاعروں میں سے ایک، 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ، پنجاب (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک پڑھے لکھے خاندان سے تھا۔ فیض نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم مقامی مسجد سے حاصل کی اور بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی اور عربی ادب میں ماسٹرز کیا۔ ان کی تعلیم نے ان کی شاعری میں ایک گہری کلاسیکی بنیاد اور جدید ترقی پسند سوچ پیدا کی۔
فیض کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے رومانیت (عشق) اور حقیقت پسندی (انقلاب) کو اس طرح ملایا کہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی مشہور نظم 'مجھ سے پہلی سی محبت میری محبوب نہ مانگ' اس بات کا واضح ثبوت ہے، جہاں عاشق اپنی محبوبہ سے کہتا ہے کہ دنیا کے دکھ اور غریبوں کے مصائب محبت سے زیادہ توجہ طلب ہیں۔
"اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا"
وہ ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے نمایاں رکن تھے اور ان کی شاعری ہمیشہ مظلوموں، مزدوروں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بنی رہی۔
فیض صرف ایک شاعر نہیں تھے، بلکہ ایک سرگرم صحافی، ٹریڈ یونینسٹ، اور فوجی افسر بھی تھے۔ 1951 میں، انہیں مشہور 'راولپنڈی سازش کیس' میں حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں سزائے موت کا خطرہ تھا، لیکن بالآخر چار سال بعد 1955 میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
قید کا یہ دور ان کی شاعری کے لیے انتہائی زرخیز ثابت ہوا۔ ان کی مشہور کتابیں 'دستِ صبا' اور 'زنداں نامہ' اسی دور کی یادگار ہیں۔ جیل کی تنہائیوں میں لکھی گئی ان کی غزلیں اور نظمیں، جیسے 'ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے' اور 'نثار میں تری گلیوں کے'، آزادی اور جدوجہد کے استعارے بن گئیں۔
فیض کی مقبولیت صرف برصغیر تک محدود نہیں تھی۔ ان کی شاعری کے تراجم دنیا کی کئی زبانوں میں ہوئے۔ وہ بین الاقوامی امن تحریکوں کے سرگرم حامی تھے۔ 1962 میں، سوویت یونین نے انہیں امن اور انسانیت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں 'لینن پیس پرائز' (Lenin Peace Prize) سے نوازا، جو ان کے لیے ایک بہت بڑا عالمی اعزاز تھا۔
فیض نے اپنی زندگی کے آخری سال زیادہ تر جلاوطنی (بیروت، لبنان) اور پاکستان میں گزارے۔ 20 نومبر 1984 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کا جنازہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ فیض آج بھی برصغیر کے نوجوانوں، انقلابیوں اور محبت کرنے والوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ ان کی شاعری وقت اور سرحدوں کی قید سے آزاد ہے۔
Urdu adab ke sunehre daur ki kahaniyan, azeem shayaron ke posheeda qisse, aur unki zindagiyon ke naye pehlu ek hi jagah.
Background sound chalu rahega jab tak aap band na karein.
Test your knowledge of Urdu poetry! 10 random questions will be asked. Pass the test to earn a premium Certificate of Excellence.
Your Score: 10/10
Congratulations! You have earned the Certificate.
You need at least 7/10 to earn the certificate.
This proudly certifies that
has successfully demonstrated exceptional knowledge of Urdu literature, classical poetry, and Adab by passing the Aazmaish evaluation with distinction.
(Swipe left or right to see the full certificate)
Apna sher likhne par 20 pts, options chunne par 10 pts.
Aapka Score
Top 10 Khiladiyon Ka Darbar
'Save' karne par yeh sirf aapke phone mein rahega.
'Send' karne par Admin ke paas jayega.
Is lafz ki mukammal tareekh aur tafseel ke liye muntakhib karein:
Yeh sher kisko dedicate karna chahte hain?
Aapke liye ek sher bheja gaya hai...
Diwan E Sukhan ko ad-free aur azaad rakhne ki is adabi koshish mein humsafar banein. Aapka ta'awun qabil-e-qadar hai.
Diwan E Sukhan ke hazaron padhne walon tak apna paigham pohnchayein. Yeh khaas jagah premium brands aur karobar ke liye banayi gayi hai.
(TAP TO LEARN MORE!)
Ishtehaar Ke Liye Rabta Karein
Greetings. I am Athar Aalam. Diwan E Sukhan represents a delicate intersection of my core pursuits: the profound depths of classical Urdu poetry, the nuanced insights of human psychology, and the clean elegance of modern digital design. This platform is a humble endeavor to give aesthetic form to timeless emotions and wisdom.
Diwan E Sukhan ke hawale se apni koi tajweez (suggestion) dein ya apna likha hua kalaam website par shamil karne ke liye bhejein.