سمپورن سنگھ کالرا، جنہیں پوری دنیا آج محبت، عقیدت اور احترام سے 'گلزار' کے نام سے جانتی ہے، محض ایک نغمہ نگار یا فلم ساز نہیں، بلکہ وہ اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا دھڑکتا ہوا احساس ہیں جس نے شاعری کو ایک نئی بصری (Visual) زبان دی۔ 18 اگست 1934 کو جہلم کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں 'دینہ' (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہونے والے گلزار کا بچپن نہایت تلخ اور ہجرت کے کرب سے گزرا۔ 1947 کی تقسیم ہند نے ان سے ان کا گاؤں، ان کا بچپن اور ان کا گھر چھین لیا۔ تقسیم کے خونی فسادات اور اپنا وطن چھوڑنے کا وہ دکھ ان کی روح میں اس قدر گہرائی تک اتر گیا کہ ان کی بعد کی تحریروں، کہانیوں اور فلموں (جیسے 'راوی پار') میں وہ درد بار بار ابھر کر سامنے آتا ہے۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہندوستان آ گیا، لیکن نوجوان سمپورن سنگھ کا دل کتابوں اور شاعری میں اٹکا ہوا تھا۔ ان کے والد کو ان کا یہ شوق بالکل پسند نہیں تھا، کیونکہ ان کے خیال میں ایک لکھاری ہمیشہ بھوکا مرتا ہے۔ حالات کی ستائی ہوئی اس زندگی میں، نوجوان گلزار کو ممبئی کے ایک موٹر گیراج میں بطور مکینک نوکری کرنی پڑی۔ وہ دن میں گاڑیوں کے پرزے جوڑتے، ان پر رنگ (Touch-up) کرتے، اور رات کو کرائے کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر رابندر ناتھ ٹیگور اور غالب کو پڑھا کرتے تھے۔
گلزار کی زندگی کا اصل موڑ اس وقت آیا جب ان کی ملاقات 'ترقی پسند تحریک' کے عظیم شاعروں اور لکھاریوں سے ہوئی۔ مشہور نغمہ نگار شیلیندر اور فلمساز بمل رائے نے اس نوجوان کی آنکھوں میں چھپی ہوئی ادبی چنگاری کو پہچان لیا۔ بمل رائے کی فلم 'بندنی' (1963) کے لیے جب گلزار نے اپنا پہلا گیت "مورا گورا انگ لئی لے، موہے شام رنگ دئی دے" لکھا، تو ہندوستانی سنیما کی تاریخ بدل گئی۔ گلزار کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے روایتی اردو شاعری کے بھاری بھرکم اور فرسودہ استعاروں (Metaphors) کو یکسر مسترد کر دیا۔ ان کے ہاں گل و بلبل، شمع و پروانہ یا ساقیا و مے خانہ کی باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی شاعری میں چاند، بارش، گیلی مٹی کی خوشبو، پرانے خطوط، کھانستا ہوا پڑوسی اور خالی پیالی جیسے روزمرہ کے عام الفاظ ایک نئی اور جادوئی معنویت کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ انہوں نے جذبات کو تجریدی (Abstract) انداز میں پیش کرنے کا ایک ایسا نیا اسلوب ایجاد کیا جسے سمجھنا عام آدمی کے لیے بھی آسان تھا اور جس میں ایک گہرا فلسفہ بھی چھپا ہوا تھا۔
"شام سے آنکھ میں نمی سی ہے
آج پھر آپ کی کمی سی ہے
دفن کر دو ہمیں کہ سانس ملے
نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے"
گلزار نے اردو شاعری کی ایک بالکل نئی صنف 'تریوینی' (Triveni) بھی ایجاد کی۔ تریوینی دراصل تین مصرعوں پر مشتمل ایک صنف ہے، جس میں پہلے دو مصرعے مل کر ایک مکمل خیال پیش کرتے ہیں، لیکن تیسرا مصرعہ آ کر اس خیال کو ایک بالکل نیا، حیرت انگیز اور بعض اوقات متضاد پہلو دے دیتا ہے۔ گلزار اسے اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے دو مصرعے گنگا اور جمنا کی طرح ہیں، اور تیسرا مصرعہ پوشیدہ سرسوتی ندی ہے جو اچانک ظاہر ہو کر منظر بدل دیتی ہے۔ گلزار کے گیت جیسے "میرا کچھ سامان"، "نام گم جائے گا"، اور "تجھ سے ناراض نہیں زندگی" محض فلمی گانے نہیں ہیں، بلکہ یہ جدید اردو ادب کے وہ شاہکار ہیں جنہیں صدیوں تک نصاب میں پڑھایا جائے گا۔ 'میرا کچھ سامان' میں انہوں نے جس طرح بغیر کسی قافیہ ردیف (Rhyme scheme) کے جذبات کو آزاد نظم کے طور پر پیش کیا اور اسے لتا منگیشکر اور آر ڈی برمن کی موسیقی نے امر کر دیا، وہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ کا ایک معجزہ ہے۔
"میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے
ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں
اور میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے
وہ رات بھجا دو، میرا وہ سامان لوٹا دو"
ایک موٹر مکینک سے لے کر آسکر اور گریمی ایوارڈ (Oscar and Grammy Awards) جیتنے تک کا گلزار کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ اگر فنکار کے جذبے سچے ہوں تو وہ پتھروں سے بھی جھرنے بہا سکتا ہے۔ گلزار آج بھی ممبئی میں مقیم ہیں اور سفید لباس پہنے، خاموشی سے اپنے قلم کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ وہ اردو اور ہندی کے درمیان ایک ایسا پل ہیں جس نے دونوں زبانوں کے فاصلوں کو مٹا کر انہیں ایک ہی جذباتی لڑی میں پرو دیا ہے۔
Urdu adab ke sunehre daur ki kahaniyan, azeem shayaron ke posheeda qisse, aur unki zindagiyon ke naye pehlu ek hi jagah.
Background sound chalu rahega jab tak aap band na karein.
Test your knowledge of Urdu poetry! 10 random questions will be asked. Pass the test to earn a premium Certificate of Excellence.
Your Score: 10/10
Congratulations! You have earned the Certificate.
You need at least 7/10 to earn the certificate.
This proudly certifies that
has successfully demonstrated exceptional knowledge of Urdu literature, classical poetry, and Adab by passing the Aazmaish evaluation with distinction.
(Swipe left or right to see the full certificate)
Apna sher likhne par 20 pts, options chunne par 10 pts.
Aapka Score
Top 10 Khiladiyon Ka Darbar
'Save' karne par yeh sirf aapke phone mein rahega.
'Send' karne par Admin ke paas jayega.
Is lafz ki mukammal tareekh aur tafseel ke liye muntakhib karein:
Yeh sher kisko dedicate karna chahte hain?
Aapke liye ek sher bheja gaya hai...
Diwan E Sukhan ko ad-free aur azaad rakhne ki is adabi koshish mein humsafar banein. Aapka ta'awun qabil-e-qadar hai.
Diwan E Sukhan ke hazaron padhne walon tak apna paigham pohnchayein. Yeh khaas jagah premium brands aur karobar ke liye banayi gayi hai.
(TAP TO LEARN MORE!)
Ishtehaar Ke Liye Rabta Karein
Greetings. I am Athar Aalam. Diwan E Sukhan represents a delicate intersection of my core pursuits: the profound depths of classical Urdu poetry, the nuanced insights of human psychology, and the clean elegance of modern digital design. This platform is a humble endeavor to give aesthetic form to timeless emotions and wisdom.
Diwan E Sukhan ke hawale se apni koi tajweez (suggestion) dein ya apna likha hua kalaam website par shamil karne ke liye bhejein.