DIWAN-E-SUKHAN • Faiz Ahmad Faiz

فیض احمد فیض کو کیسے پڑھیں؟ نئے پڑھنے والوں کے لیے ایک رہنمائی

فیض احمد فیض کی شاعری ایک ایسا جادو ہے جو آہستہ آہستہ قاری پر طاری ہوتا ہے۔ اگر آپ اردو شاعری میں نئے ہیں اور فیض کو پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے یہ جان لیں کہ ان کا کلام محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ محبت اور بغاوت کا ایک حسین امتزاج ہے۔ نئے پڑھنے والوں کو فیض کی زبان بہت نرم اور میٹھی لگتی ہے، لیکن اس دھیمے اور رومانوی لہجے کے پیچھے ایک بہت بڑا سماجی اور سیاسی پیغام چھپا ہوتا ہے۔

روایتی غزل میں عاشق صرف اپنے محبوب کے ہجر و وصال، زلفوں اور رخسار کے گیت گاتا تھا، لیکن فیض نے اس روایت کو مکمل طور پر بدل دیا۔ انہوں نے دنیا کے دکھوں اور محبوب کے دکھ کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیا۔ انہوں نے یہ سکھایا کہ جب معاشرہ ظلم اور ناانصافی کا شکار ہو تو صرف عشق کی باتیں کرنا کافی نہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے ان کی مشہور نظم "مجھ سے پہلی سی محبت میری جاں نہ مانگ" کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔

"اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا"

فیض کو سمجھنے کا سب سے بڑا راز ان کے استعاروں (Metaphors) میں پوشیدہ ہے۔ جب آپ فیض کی کوئی غزل یا نظم پڑھیں تو یہ یاد رکھیں کہ ان کی شاعری میں 'محبوب' اکثر ان کا 'وطن' یا مظلوم عوام ہوتے ہیں۔ اسی طرح 'رقیب' کا مطلب کوئی عاشق نہیں بلکہ ظالم حکمران یا جابر نظام ہوتا ہے۔ 'زنداں' یا 'قفس' (جیل) معاشرے کی قید کو ظاہر کرتا ہے، اور 'صبا' (ہوا) آزادی کا پیغام لانے والی قاصد ہے۔ جب وہ بہار کا ذکر کرتے ہیں تو دراصل انقلاب اور تبدیلی کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ خوبصورت پردہ ان کی غزلوں کو ایک گہرا اور دوہرا معنی دیتا ہے۔

"گلوں میں رنگ بھرے بادِ نوبہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے"

فیض کی زندگی کا ایک بڑا اور کٹھن حصہ جیل کی کال کوٹھریوں میں گزرا (خاص طور پر راولپنڈی سازش کیس کے دوران)۔ ان کا مجموعہ 'زنداں نامہ' اسی دور کی یادگار ہے۔ لیکن قید و بند کی صعوبتیں ان کے قلم کی کاٹ اور دل کی امید کو ذرا بھی کم نہ کر سکیں۔ ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی ان کی 'امید' ہے۔ وہ قید تنہائی اور بدترین حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتے۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے قاری محسوس کرتا ہے کہ ظلم کی رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر کا آنا طے ہے۔

"دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے"

نئے پڑھنے والوں کے لیے ایک آخری اور اہم مشورہ یہ ہے کہ فیض کو صرف پڑھیں نہیں، بلکہ انہیں سنیں۔ مہدی حسن، نورجہاں، بیگم اختر اور اقبال بانو جیسی عظیم آوازوں نے فیض کی شاعری کو جس انداز میں گایا ہے، وہ اسے سمجھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب اقبال بانو ہزاروں کے مجمعے میں 'ہم دیکھیں گے' گاتی ہیں تو فیض کا اصل انقلابی روپ پوری طرح نکھر کر سامنے آتا ہے۔ فیض کو پڑھتے وقت جلد بازی نہ کریں، ان کے الفاظ کی گہرائی کو محسوس کریں، اور اس سحر (صبح) کا انتظار کریں جس کا وعدہ وہ اپنی ہر غزل میں کرتے ہیں۔

Aur Shayari Padhein →
Message
×