جون ایلیا 14 دسمبر 1931 کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک انتہائی علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید سبط اصغر تھا اور وہ نامور صحافی و شاعر رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔ جون کا بچپن کتابوں کے درمیان گزرا جس کی وجہ سے انہوں نے عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی جیسی زبانوں میں کم عمری میں ہی مہارت حاصل کر لی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ہجرت کے سخت مخالف تھے اور اسے ایک تاریخی غلطی مانتے تھے، لیکن حالات کے جبر اور خاندانی دباؤ کے تحت انہیں 1957 میں کراچی، پاکستان ہجرت کرنی پڑی۔ یہ ہجرت ان کی روح پر ایک گہرا زخم چھوڑ گئی جس کا عکس اور امروہہ کی یاد ان کی پوری شاعری میں شدت سے نظر آتی ہے۔
ان کی شاعری اپنے منفرد انداز، تلخ حقیقت نگاری، اور فلسفیانہ گہرائی کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ جون مشاعروں میں اپنے ڈرامائی، بے باک اور انتہائی جذباتی اندازِ بیان کے لیے بے حد مشہور تھے۔ وہ محبت، جدائی، تنہائی اور وجودی کرب کو ایسے انوکھے، طنزیہ اور باغیانہ انداز میں پیش کرتے تھے جو سیدھا سننے والوں کے دلوں میں اتر جاتا تھا۔ ان کا انداز روایتی شاعروں سے بالکل مختلف تھا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ 'شاید' 1991 میں شائع ہوا جب وہ ساٹھ سال کے ہو چکے تھے۔ 'شاید' کے طویل دیباچے کو اردو نثر کا ایک شاندار شاہکار مانا جاتا ہے جس میں انہوں نے اپنے نظریات اور زندگی کے فلسفے کو بے نقاب کیا ہے۔
"نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم"
جون ایلیا کی نجی زندگی کافی ہنگامہ خیز اور دکھوں سے بھری تھی۔ ان کی شادی مشہور افسانہ نگار اور کالم نویس زاہدہ حنا سے ہوئی، جن سے ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ رشتہ زیادہ عرصہ نہ چل سکا اور طلاق پر ختم ہوا۔ اس علیحدگی نے جون کو مکمل طور پر توڑ کر رکھ دیا اور انہیں مزید تنہائی، افسردگی اور خود ترسی کی طرف دھکیل دیا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں وہ گھر تک محدود ہو گئے اور کثرتِ شراب نوشی کے باعث ان کی صحت تیزی سے گرنے لگی۔ وہ خود کو ایک "ناکام انسان" کہتے تھے، لیکن ان کی یہی ناکامی اور اداسی ان کی شاعری کا سب سے مضبوط پہلو بن گئی۔
8 نومبر 2002 کو طویل علالت کے بعد کراچی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کی موت کے وقت اردو ادب کو اندازہ نہیں تھا کہ جون کا اصل عروج ان کے جانے کے بعد شروع ہوگا۔ ان کے بعد از مرگ شائع ہونے والے مجموعے جیسے 'یعنی'، 'گمان'، 'لیکن'، اور 'گویا' نے فروخت کے ریکارڈ توڑ دیے۔ آج کے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے دور میں، جون ایلیا نوجوان نسل (Gen Z) کے سب سے پسندیدہ اور پڑھے جانے والے شاعر بن چکے ہیں۔ ان کی تلخ مگر سچی باتیں، تنہائی کا احساس اور معاشرے سے بیزاری آج بھی ٹوٹے ہوئے دلوں اور حساس لوگوں کی سب سے توانا آواز ہے۔