اردو شاعری کی تاریخ میں جب بھی درد، کرب اور آنسوؤں کا ذکر آتا ہے، تو میر تقی میر کے بعد جس شاعر کا نام سب سے زیادہ احترام اور دکھ کے ساتھ لیا جاتا ہے، وہ ڈاکٹر کلیم عاجز ہیں۔ 11 اکتوبر 1920 (بعض حوالوں کے مطابق 1924) کو بھارتی ریاست بہار کے ضلع نالندہ کے گاؤں 'تیلہاڑا' میں پیدا ہونے والے کلیم عاجز کی زندگی ایک ایسا خونچکاں المیہ ہے جسے پڑھ کر آج بھی انسان کا دل دہل جاتا ہے۔ ان کی شاعری محض خیالی محبوب کے ہجر و وصال کے قصے نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے اپنے سینے میں لگی ہوئی وہ آگ تھی جس نے ان کے پورے خاندان کو راکھ کر دیا تھا۔ 1946 میں برصغیر کی تقسیم سے عین قبل، بہار میں تاریخ کے بدترین اور خونی ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات میں وحشت اور درندگی کا وہ ننگا ناچ کھیلا گیا جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ بلوائیوں نے کلیم عاجز کے گاؤں پر حملہ کر دیا اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی بوڑھی ماں، ان کی بہن اور خاندان کے دیگر کئی افراد کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔ نوجوان کلیم نے اپنی ماں اور بہن کی خون میں لت پت لاشیں خود اپنے ہاتھوں سے اٹھائیں۔ اس ایک رات نے کلیم عاجز کی زندگی سے مسکراہٹ، خوشی اور سکون ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔
اس ہولناک سانحے کے بعد، کلیم عاجز اندر سے مکمل طور پر ٹوٹ چکے تھے۔ ان کے پاس دو راستے تھے: یا تو وہ اس درندگی کے خلاف ہتھیار اٹھا لیتے اور نفرت کا راستہ اپناتے، یا پھر اپنے اس لامحدود دکھ کو لفظوں کا روپ دے دیتے۔ انہوں نے دوسرا راستہ چنا۔ انہوں نے اپنے قلم کو اپنی ماں اور بہن کے خون میں ڈبو کر وہ غزلیں لکھیں جنہیں سن کر پتھر دل انسان بھی رونے پر مجبور ہو جاتا۔ کلیم عاجز نے پٹنہ یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے اور پی ایچ ڈی (PhD) کی ڈگری حاصل کی اور وہیں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے۔ وہ جب بھی مشاعرے میں آتے، تو ان کا انداز باقی تمام شاعروں سے بالکل مختلف ہوتا تھا۔ وہ آنکھیں بند کر کے، ایک مخصوص، دھیمے اور روتے ہوئے لہجے (ترنم) میں اپنا کلام سناتے تھے۔ ان کی غزلوں میں جو قاتل کا ذکر ہے، وہ کوئی عاشقانہ استعارہ نہیں ہے، بلکہ وہ ان بلوائیوں اور معاشرے کی منافقت کا ذکر ہے جنہوں نے ان سے ان کی دنیا چھین لی تھی۔ ان کا یہ شعر ان کے دل کے زخموں کی سب سے سچی تصویر ہے:
"دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو"
کلیم عاجز کی شاعری بالکل میر تقی میر کے اسلوب پر مبنی تھی۔ جس طرح میر نے دہلی کی بربادی کو اپنی ذات کا دکھ بنا لیا تھا، اسی طرح کلیم عاجز نے 1946 کے فسادات اور انسانیت کی موت کو اپنی غزل کا موضوع بنایا۔ ان کی شاعری میں لہجے کی جو نرمی اور سادگی ہے، وہ دراصل اس شدید درد کا پردہ ہے جو ان کے سینے میں عمر بھر سلگتا رہا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "وہ جو شاعری کا سبب ہوا" اردو ادب کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کا دیباچہ (مقدمہ) خود انہوں نے لکھا، اور اس میں اپنے خاندان کی شہادت کا جو واقعہ بیان کیا ہے، اسے پڑھ کر آنکھوں سے آنسو رکنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ وہ اس معاشرے پر طنز کرتے تھے جو ظالم کو ظالم کہنے کی ہمت نہیں رکھتا اور جہاں قاتل کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
"وہ جو گیت تم نے سنے نہیں میری عمر بھر کی ریاض تھی
مرے درد کی تھی وہ داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے"
کلیم عاجز نے زندگی بھر شادی نہیں کی۔ وہ ایک درویش، ایک فقیر اور ایک سچے عاشق کی طرح اپنی یادوں کے سہارے زندہ رہے۔ حکومتِ ہند نے ان کی بے پناہ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1989 میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا، لیکن کوئی بھی ایوارڈ یا اعزاز اس خون کو نہیں دھو سکتا تھا جو 1946 میں ان کے گاؤں کی مٹی میں جذب ہو گیا تھا۔ 15 فروری 2015 کو ہزاری باغ (جھارکھنڈ) میں 90 سال سے زائد کی عمر میں، اردو کا یہ میرِ کارواں، اپنے سینے میں چھپے ہوئے اس عظیم دکھ کو لے کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ لیکن کلیم عاجز کی شاعری آج بھی ہر اس مظلوم کی آواز ہے جس کا حق چھین لیا گیا ہو، اور جس کے قاتل کو پہچاننے سے دنیا انکار کر دے۔
Urdu adab ke sunehre daur ki kahaniyan, azeem shayaron ke posheeda qisse, aur unki zindagiyon ke naye pehlu ek hi jagah.
Background sound chalu rahega jab tak aap band na karein.
Test your knowledge of Urdu poetry! 10 random questions will be asked. Pass the test to earn a premium Certificate of Excellence.
Your Score: 10/10
Congratulations! You have earned the Certificate.
You need at least 7/10 to earn the certificate.
This proudly certifies that
has successfully demonstrated exceptional knowledge of Urdu literature, classical poetry, and Adab by passing the Aazmaish evaluation with distinction.
(Swipe left or right to see the full certificate)
Apna sher likhne par 20 pts, options chunne par 10 pts.
Aapka Score
Top 10 Khiladiyon Ka Darbar
'Save' karne par yeh sirf aapke phone mein rahega.
'Send' karne par Admin ke paas jayega.
Is lafz ki mukammal tareekh aur tafseel ke liye muntakhib karein:
Yeh sher kisko dedicate karna chahte hain?
Aapke liye ek sher bheja gaya hai...
Diwan E Sukhan ko ad-free aur azaad rakhne ki is adabi koshish mein humsafar banein. Aapka ta'awun qabil-e-qadar hai.
Diwan E Sukhan ke hazaron padhne walon tak apna paigham pohnchayein. Yeh khaas jagah premium brands aur karobar ke liye banayi gayi hai.
(TAP TO LEARN MORE!)
Ishtehaar Ke Liye Rabta Karein
Greetings. I am Athar Aalam. Diwan E Sukhan represents a delicate intersection of my core pursuits: the profound depths of classical Urdu poetry, the nuanced insights of human psychology, and the clean elegance of modern digital design. This platform is a humble endeavor to give aesthetic form to timeless emotions and wisdom.
Diwan E Sukhan ke hawale se apni koi tajweez (suggestion) dein ya apna likha hua kalaam website par shamil karne ke liye bhejein.