مہ جبین بانو، جنہیں دنیا ہندوستانی سنیما کی عظیم ترین اور خوبصورت ترین اداکارہ 'مینا کماری' کے نام سے جانتی ہے، محض ایک فلمی ستارہ نہیں تھیں، بلکہ وہ اردو ادب کی ایک انتہائی حساس، درد مند اور گمنام شاعرہ بھی تھیں۔ سنیما کی تاریخ انہیں 'ٹریجڈی کوئین' (Tragedy Queen) کے نام سے یاد کرتی ہے کیونکہ انہوں نے پردے پر رونے، تڑپنے اور جدائی کے جو کردار ادا کیے، وہ اس قدر حقیقی تھے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے اداکاری نہیں کر رہی تھیں، بلکہ وہ اپنی اصل زندگی کا کرب اور دکھ پردے پر اتار رہی تھیں۔ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والی مہ جبین کو بچپن ہی سے اس کے باپ نے زبردستی فلموں میں دھکیل دیا تاکہ گھر کا خرچ چل سکے۔ وہ بچی جو سکول جانا چاہتی تھی، کتابیں پڑھنا چاہتی تھی، اسے کیمرے کی چکاچوند میں قید کر دیا گیا۔ مینا کماری کی ساری زندگی ایک ایسے کٹے ہوئے پتنگ کی طرح رہی جو آسمان کی بلندیوں پر تو تھا لیکن اس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی۔ یہی گھٹن اور تنہائی ان کے اندر کی شاعرہ کو بیدار کرنے کا سبب بنی، اور انہوں نے 'ناز' کے تخلص سے اپنی ڈائریوں میں وہ شاعری لکھی جو ان کے آنسوؤں کی اصل عکاس تھی۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ان کی کمال امروہی سے شادی تھی۔ کمال امروہی، جو ان سے عمر میں پندرہ سال بڑے اور پہلے سے شادی شدہ تھے، مینا کماری کے لیے ایک پناہ گاہ کے بجائے ایک سنہری پنجرہ ثابت ہوئے۔ کمال امروہی نے مینا کماری پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ ان کے میک اپ روم میں کسی مرد کو جانے کی اجازت نہیں تھی، وہ اپنی مرضی سے کسی سے مل نہیں سکتی تھیں، اور ہر وقت کمال کا ایک جاسوس ان پر نظر رکھتا تھا۔ فلم 'پاکیزہ' جو کمال امروہی کا خواب تھا، مینا کماری کے لیے ایک طویل اور تھکا دینے والا عذاب بن گئی۔ اس گھٹن زدہ زندگی سے تنگ آ کر بالآخر مینا کماری نے بغاوت کی اور کمال امروہی کا گھر چھوڑ دیا۔ لیکن تب تک ان کا دل پوری طرح ٹوٹ چکا تھا۔ وہ محبت کی تلاش میں تھیں، لیکن فلم نگری کے ہر مرد نے انہیں صرف استعمال کیا۔ اس ناقابلِ برداشت تنہائی، بے خوابی اور درد سے بچنے کے لیے، جو عورت کبھی شراب کے نام سے بھی گھبراتی تھی، وہ دن رات شراب کے نشے میں ڈوب گئی۔
"چاند تنہا ہے آسماں تنہا
دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا
بجھ گئی آس چھپ گیا تارا
تھرکتا رہ گیا دھواں تنہا"
یہ شعر ان کی روح کی اس گہری اور کھوکھلی تنہائی کی سب سے بڑی گواہی ہے جسے وہ تمام عمر اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ مینا کماری کی شاعری میں کوئی روایتی تصنع یا ادبی بناوٹ نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی عورت کی سچی ڈائری ہے جس نے محبت کے بدلے صرف دھوکے کھائے۔ ان کی شاعری میں موت کی خواہش، بکھرے ہوئے رشتے اور ایک نہ ختم ہونے والی اداسی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنی تمام ذاتی ڈائریاں اور لکھی ہوئی غزلیں مشہور نغمہ نگار اور فلمساز گلزار کے حوالے کر دیں، جنہیں وہ پیار سے مجاور بلاتی تھیں۔ گلزار نے ان کی موت کے بعد ان کی ان غزلوں کو "میں لکھتی ہوں، میں پڑھتی ہوں" کے نام سے شائع کیا، جس نے دنیا کو بتایا کہ پردے پر مسکرانے اور رونے والی وہ عظیم اداکارہ اندر سے کس قدر چھلنی تھی۔
"آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
جب میری کہانی میں وہ نام نہیں ہوتا
دن ڈوب گیا لیکن اب تک نہیں آئی شام
شاید کہ میری قسمت میں شام نہیں ہوتا"
31 مارچ 1972 کو، محض 38 برس کی عمر میں، کثرتِ شراب نوشی کے باعث جگر فیل ہونے (Liver Cirrhosis) سے مینا کماری اس بے رحم دنیا کو چھوڑ گئیں۔ ان کی موت پر کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ "مینا کماری ایک ایسی عورت تھی جس نے مرنے کے لیے شراب پینا شروع کی تھی"۔ فلم 'پاکیزہ' ان کی موت کے فوراً بعد ایک بلاک بسٹر ہٹ ثابت ہوئی، لیکن اس کامیابی کو دیکھنے کے لیے وہ صاحبِ کمال موجود نہیں تھی۔ مینا کماری عرف 'ناز' کی شاعری آج بھی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شہرت، دولت اور خوبصورتی کے پیچھے اکثر وہ تنہائی چھپی ہوتی ہے جس کا درد دنیا کا کوئی کیمرہ ریکارڈ نہیں کر سکتا۔