DIWAN-E-SUKHAN • Meer Taqi Meer

میر تقی میر: خدائے سخن جس کی انا، محبت اور پاگل پن نے اردو شاعری کو جنم دیا

اگر غالب اردو شاعری کے بادشاہ ہیں، تو میر تقی میر بلا شبہ اس کے خدا ہیں۔ اسی لیے انہیں 'خدائے سخن' (شاعری کا خدا) کہا جاتا ہے۔ اٹھارویں صدی میں پیدا ہونے والے میر کی زندگی مسلسل دکھوں، ہجرتوں اور نامراد عشق کی داستان تھی۔ میر نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے محبوب شہر دہلی کو نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں میں لٹتے، جلتے اور برباد ہوتے دیکھا۔ ان کی شاعری میں جو گہرا دکھ، اداسی اور گریہ (رونا) ہے، وہ دراصل صرف ان کا ذاتی غم نہیں، بلکہ ایک اجڑتی ہوئی تہذیب اور برباد ہوتی ہوئی دہلی کا نوحہ ہے۔

میر تقی میر جتنے بڑے شاعر تھے، ان کی انا اور خودداری اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی تھی۔ ان کے مزاج میں ایک عجیب سی چڑچڑاہٹ اور غرور تھا جو ان کی غربت کے باوجود قائم رہا۔ دہلی کے حالات خراب ہونے کے بعد جب وہ نواب آصف الدولہ کے دربار میں لکھنؤ گئے، تو وہاں کے نوابی لباس پہنے درباریوں نے میر کے سادہ اور خستہ حال لباس کا مذاق اڑایا۔ میر کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ جب انہیں مشاعرے میں کلام سنانے کی دعوت دی گئی، تو انہوں نے لکھنؤ والوں کی طرف طنزیہ نگاہ ڈالی اور وہ مشہور اشعار پڑھے جن میں انہوں نے دہلی کی بربادی کا ذکر کرتے ہوئے لکھنؤ کے شاعروں کو ان کی اوقات یاد دلائی۔

"کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے"

میر کی زندگی کا دوسرا پہلو ان کا وہ عشق تھا جس نے انہیں باقاعدہ پاگل پن (وحشت) کی سرحد تک پہنچا دیا تھا۔ محبت میں ناکامی اور گھریلو پریشانیوں کے باعث میر ایک عرصے تک جنون کی حالت میں رہے، چاند کو دیکھ کر باتیں کرتے اور راتوں کو روتے رہتے۔ ان کی غزلوں میں 'دل' ایک ایسے ٹوٹے ہوئے کھلونے یا بکھرے ہوئے شیشے کی طرح پیش کیا گیا ہے جسے جوڑنا ناممکن ہے۔ غالب، جو خود کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، انہوں نے بھی میر کی عظمت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا تھا: "ریختے کے تمہی استاد نہیں ہو غالب، کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا۔"

"سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے"

میر کا یہ شعر ان کی پوری زندگی کی تھکان اور کرب کا نچوڑ ہے۔ ساری زندگی در در کی ٹھوکریں کھانے اور دہلی کے کھنڈرات پر آنسو بہانے کے بعد، میر تقی میر کا انتقال 1810 میں لکھنؤ میں ہوا۔ ان کی موت اتنی گمنامی میں ہوئی کہ آج لکھنؤ میں ان کی اصل قبر کا نشان تک موجود نہیں، وہاں سے ریل کی پٹڑیاں گزر چکی ہیں۔ لیکن جب تک اردو زبان زندہ ہے، میر کی غزلوں کا درد اور ان کی آواز کا سحر کبھی مر نہیں سکتا۔

Aur Shayari Padhein →
Message
×