DIWAN-E-SUKHAN • Mir Anees

میر انیس: اردو کا شیکسپیئر جس نے کربلا کے سچ کو لفظوں کی لازوال تصویر بنا دیا

عالمی ادب کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، تو ہومر، ڈانٹے، اور شیکسپیئر کے ساتھ جس ایک اردو شاعر کا نام پوری شان و شوکت اور عظمت کے ساتھ لیا جائے گا، وہ میر ببر علی انیس ہیں۔ 1803 میں فیض آباد کے ایک ایسے علمی اور ادبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے میر انیس، مشہور مثنوی نگار میر حسن کے پوتے تھے۔ میر انیس نے اردو شاعری کی ایک مخصوص صنف 'مرثیہ' (کسی کے مرنے پر غم کا اظہار) کو اس قدر بلندی اور کمال تک پہنچا دیا کہ آج تک کوئی دوسرا شاعر اس مقام کی گرد کو بھی نہیں چھو سکا۔ میر انیس کی شاعری محض واقعات کا بیان نہیں تھی، بلکہ وہ لفظوں کے ذریعے ایک ایسا جیتا جاگتا اور بولتا ہوا منظر نامہ کھینچتے تھے کہ سننے والے خود کو 1400 سال پرانے کربلا کے میدان میں محسوس کرنے لگتے تھے۔ انہوں نے عرب کے تپتے ہوئے صحراؤں، پیاس کی شدت، تلواروں کی جھنکار، اور گھوڑوں کی ٹاپوں کو لکھنؤ کی گومتی ندی کے کنارے اس قدر مہارت سے پیش کیا کہ ان کا ہر ایک مصرعہ ایک مکمل فلمی منظر (Visual scene) معلوم ہوتا ہے۔

میر انیس کا سب سے بڑا اور ناقابلِ تسخیر کمال ان کی زبان دانی اور لغت (Vocabulary) پر ان کی حیرت انگیز گرفت تھی۔ ماہرینِ لسانیات کا ماننا ہے کہ اردو زبان میں جتنے الفاظ میر انیس نے اکیلے استعمال کیے ہیں، اتنے الفاظ اردو کے کسی دوسرے شاعر نے اپنی پوری زندگی میں استعمال نہیں کیے۔ ان کے پاس صبح کے منظر کو بیان کرنے کے درجنوں مختلف انداز تھے، وہ میدانِ جنگ کی گرمی کا نقشہ اس طرح کھینچتے تھے کہ قاری کو تپش محسوس ہونے لگتی تھی۔ انہوں نے مرثیے کو صرف رونے رلانے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس میں رزمیہ (Epic)، فخریہ، مکالمہ نگاری، اور انسانی نفسیات کے وہ عظیم پہلو شامل کیے جو دنیا کے اعلیٰ ترین ادب میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی منظر کشی کی سب سے بڑی مثال ان کے ایک مرثیے کا وہ حصہ ہے جس میں وہ کربلا کی صبح کا ذکر کرتے ہیں، جس کی سادگی اور خوبصورتی آج بھی عقل کو دنگ کر دیتی ہے۔

"طے کر چکا جو منزلِ شب کاروانِ صبح
ہونے لگا افق سے ہویدا نشانِ صبح
گردوں سے کوچ کرنے لگے تارے یک بیک
نوبت بجی کہ پاس ہے اب بوستانِ صبح"

میر انیس کی شخصیت اور ان کے پڑھنے کا انداز (تحت اللفظ) بھی ان کی شاعری کی طرح سحر انگیز تھا۔ لکھنؤ کی محفلوں میں جب میر انیس منبر پر بیٹھ کر اپنا کلام سناتے، تو ان کی آواز کے اتار چڑھاؤ، ان کی آنکھوں کی حرکت اور چہرے کے تاثرات سے لاکھوں کا مجمع مسحور ہو جاتا تھا۔ اسی دور میں ایک اور عظیم مرثیہ نگار 'مرزا دبیر' بھی لکھنؤ میں موجود تھے، اور ان دونوں اساتذہ کے مداحوں کے درمیان اکثر ادبی نوک جھونک رہتی تھی جسے 'انیسیہ اور دبیریہ' چشمک کہا جاتا تھا۔ لیکن ان دونوں کے درمیان جو باہمی احترام اور محبت تھی، وہ آج کے دور میں ناپید ہے۔ جب میر انیس کا انتقال ہوا، تو مرزا دبیر نے روتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ "آج آسمانِ ادب کا سورج غروب ہو گیا"۔ میر انیس کی انا اور خودداری بھی ضرب المثل تھی؛ انہوں نے کبھی کسی نواب یا بادشاہ کی خوشنودی کے لیے قصیدے نہیں لکھے، ان کا ماننا تھا کہ جس قلم نے نواسہِ رسول (ص) کی شان بیان کر دی، وہ قلم کسی دنیاوی حاکم کے سامنے نہیں جھک سکتا۔

"نمکِ خوانِ تکلم ہے فصاحت میری
ناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری
رنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری
شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری"

اس مشہورِ زمانہ رباعی میں میر انیس نے اپنے فن، اپنی فصاحت اور اپنی زبان دانی کا جو دعویٰ کیا ہے، اردو ادب کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ وہ دعویٰ سو فیصد سچا ہے۔ 10 دسمبر 1874 کو لکھنؤ میں اس خدائے سخن کا انتقال ہوا، لیکن انہوں نے اردو زبان کو وہ وسعت، وہ الفاظ کا خزانہ، اور وہ تہذیبی وقار بخشا جس کا قرض اردو زبان تا قیامت نہیں اتار سکتی۔ میر انیس کا مرثیہ صرف اہلِ تشیع کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ پوری انسانیت، اردو زبان سے محبت کرنے والوں، اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق سیکھنے والوں کے لیے ادب کا وہ عظیم معجزہ ہے جو رہتی دنیا تک روشن رہے گا۔

Aur Shayari Padhein →
Message
×