مرزا اسد اللہ خاں غالب، جنہیں دنیا اردو اور فارسی کے عظیم ترین شاعر کے طور پر جانتی ہے، 27 دسمبر 1797 کو آگرہ کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن یتیمی اور محرومیوں میں گزرا، لیکن ان کے اندر کا شاعر بہت کم عمری میں ہی جاگ اٹھا تھا۔ 13 سال کی عمر میں ان کی شادی امراؤ بیگم سے ہوئی، جس کے بعد وہ دہلی منتقل ہو گئے۔ اس وقت کی دہلی محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیب و تمدن اور علم و ادب کا گہوارہ تھی۔
دہلی میں آ کر غالب کا فن پوری طرح نکھرا۔ وہ ایک ایسے دور میں جی رہے تھے جب آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا دربار شعراء کا مسکن تھا۔ ذوق، مومن، اور شیفتہ جیسے نابغہ روزگار لوگ ان کے ہم عصر تھے۔ غالب اور استاد ابراہیم ذوق کے درمیان ادبی چشمک کے قصے آج بھی مشہور ہیں۔ غالب کو اپنی فارسی اور پیچیدہ خیالات پر فخر تھا، جبکہ ذوق سادہ بیانی کے قائل تھے۔
"بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے"
یہ شعر اس بات کا ثبوت ہے کہ غالب کس طرح اپنے حریفوں پر طنز کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ بادشاہ کی ناراضگی کے باوجود، غالب اپنی حاضر دماغی سے دربار میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور بعد ازاں بہادر شاہ ظفر کے استاد بھی مقرر ہوئے۔
غالب کی شاعری جتنی گہری اور فلسفیانہ ہے، ان کی نجی زندگی اتنی ہی دلچسپ تھی۔ وہ ایک زندہ دل انسان تھے۔ قرض میں ڈوبے رہنے اور ذاتی زندگی کے بے پناہ دکھوں (ان کے سات بچوں میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا) کے باوجود، انہوں نے ہنسنا نہیں چھوڑا۔ ان کا آموں سے عشق ضرب المثل بن چکا ہے۔ دوستوں سے خطوط میں آموں کی فرمائش کرنا ان کی عادت تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ آم میں صرف دو خوبیاں ہونی چاہئیں: "میٹھے ہوں اور بہت سارے ہوں۔"
غالب کی زندگی کا سب سے المناک باب 1857 کی جنگ آزادی (جسے انگریز غدر کہتے ہیں) سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے پیارے شہر دہلی کو کھنڈرات میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ وہ شہر جو کبھی مشاعروں کی محفلوں سے گونجتا تھا، اب برطانوی فوج کی چھاؤنی بن چکا تھا۔ ان کے کئی دوست پھانسی چڑھ گئے، اور کچھ شہر چھوڑ گئے۔
اس دور کے حالات کو انہوں نے اپنی فارسی ڈائری 'دستمبو' اور اپنے خطوط میں انتہائی دردناک انداز میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، "میرے سامنے خون کا دریا بہہ رہا ہے، خدا جانے ابھی مجھے کیا کیا دیکھنا باقی ہے۔" ان کے خطوط محض نجی پیغامات نہیں، بلکہ ایک اجڑتی ہوئی تہذیب کا سب سے مستند تاریخی حوالہ ہیں۔
مرزا غالب کا انتقال 15 فروری 1869 کو دہلی میں ہوا۔ ان کی پوری زندگی جدوجہد، مالی تنگی اور اپنوں کے بچھڑنے کے دکھ میں گزری، لیکن انہوں نے اردو ادب کو وہ شاہکار دیے جو آج تک ناقابل تسخیر ہیں۔ غالب صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک پوری صدی اور ایک ڈوبتی ہوئی تہذیب کی زندہ آواز تھے۔