DIWAN-E-SUKHAN • Mirza Ghalib

مرزا غالب کی حاضر دماغی: آم، روزے اور مغل دربار کے دلچسپ قصے

مرزا غالب کو دنیا ایک عظیم، سنجیدہ اور فلسفیانہ شاعر کے طور پر جانتی ہے، لیکن ان کی نجی زندگی بے پناہ شوخی، مزاح اور حاضر دماغی سے بھرپور تھی۔ مالی پریشانیوں، قرض اور ذاتی زندگی کے دکھوں کے باوجود، غالب نے کبھی مسکرانا اور دوستوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا نہیں چھوڑا۔ ان کی حاضر دماغی کے قصے اتنے ہی مشہور ہیں جتنی ان کی غزلیں۔ خاص طور پر ان کا آموں سے عشق تو ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے، اور وہ خود کہتے تھے کہ آموں میں صرف دو خوبیاں ہونی چاہئیں: "ایک تو میٹھے ہوں، اور دوسرے بہت سارے ہوں۔"

آموں سے ان کی محبت کا ایک نہایت دلچسپ واقعہ ان کے قریبی دوست حکیم رضی الدین کے ساتھ پیش آیا۔ حکیم صاحب کو آم بالکل پسند نہیں تھے۔ ایک دن دونوں دوست غالب کے مکان کے برآمدے میں بیٹھے تھے کہ گلی سے ایک گدھے والا گزرا۔ راستے میں آم کے چھلکے پڑے تھے۔ گدھے نے چھلکوں کو سونگھا اور چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ حکیم صاحب نے فوراً غالب پر طنز کیا، "دیکھو مرزا! آم ایسی چیز ہے کہ گدھا بھی نہیں کھاتا۔" غالب نے مسکراتے ہوئے فوراً جواب دیا، "بے شک حکیم صاحب! گدھا ہی آم نہیں کھاتا۔"

ان کی شوخی صرف دوستوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دربار میں بھی ان کی حاضر دماغی کے چرچے تھے۔ ایک مرتبہ رمضان کے مہینے میں بادشاہ نے غالب سے پوچھا، "مرزا! تم نے کتنے روزے رکھے؟" غالب نے نہایت معصومیت اور شرارت سے جواب دیا، "پیر و مرشد! ایک نہیں رکھا۔" بادشاہ ان کے اس ذومعنی جواب (کہ میں نے ایک بھی روزہ نہیں رکھا، یا میں نے صرف ایک روزہ نہیں رکھا) پر مسکرا کر رہ گئے۔

"قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن"

غالب کا یہ شعر ان کی اپنی خستہ حالی پر ایک خوبصورت اور مزاحیہ طنز ہے۔ وہ ہمیشہ قرض مانگنے والوں کو بھی اپنی باتوں میں الجھا کر ہنسا دیا کرتے تھے۔ یہ تمام قصے ثابت کرتے ہیں کہ غالب صرف غمِ جاناں اور غمِ دوراں کے شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ ایک نہایت زندہ دل انسان تھے جو کٹھن ترین حالات میں بھی زندگی کی تلخیوں کو اپنی مسکراہٹ اور طنز و مزاح سے میٹھا کرنا جانتے تھے۔

Aur Shayari Padhein →
Message
×