غلام عباس، جو اردو ادب کے آسمان پر 'محسن نقوی' کے نام سے ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ابھرے اور ایک شہابِ ثاقب کی طرح جل کر امر ہو گئے، محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک بپھرا ہوا طوفان تھے۔ 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان (پاکستان) کے ایک انتہائی مذہبی اور پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہونے والے محسن کی شخصیت میں ایک عجیب اور دلکش تضاد تھا۔ ایک طرف وہ انتہائی رومانوی، نرم دل اور نوجوانوں کے پسندیدہ غزل گو شاعر تھے جن کی غزلیں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء دیوانہ وار گنگناتے تھے، اور دوسری طرف وہ اہلِ بیت (ع) کے ایک سچے عاشق، ایک بے باک خطیب اور ظلم کے خلاف گرجنے والی ایک للکار تھے۔ محسن نقوی کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے جدید اردو غزل کے حسن و جمال کو بھی عروج بخشا اور ساتھ ہی کربلا کے فلسفے کو جدید دور کے یزیدوں کے خلاف ایک استعارے (Metaphor) کے طور پر نہایت خوبصورتی سے استعمال کیا۔ ان کی شاعری میں جتنی شدت عشقِ مجاز میں تھی، اس سے کہیں زیادہ شدت عشقِ حقیقی اور حق کی گواہی میں تھی۔
ان کی رومانوی شاعری کا دور 70 اور 80 کی دہائیوں میں اپنے عروج پر تھا۔ جب وہ مشاعروں میں اپنی مخصوص کھردری، درد بھری اور گونجتی ہوئی آواز میں غزلیں پڑھتے، تو مجمع پر ایک سحر طاری ہو جاتا تھا۔ ان کی غزلوں میں ہجر کی کسک، محبوب کی بے رخی اور جوانی کی آوارگی کا جو بے ساختہ بیان ہے، وہ سیدھا دل میں اتر جاتا ہے۔ ان کی مشہورِ زمانہ غزل "یہ دل یہ پاگل دل میرا"، جسے بعد میں معروف گلوکار غلام علی نے گا کر امر کر دیا، آج بھی لاکھوں لوگوں کے ٹوٹے ہوئے دلوں کی ترجمانی کرتی ہے۔ محسن نے اپنی شاعری کے ذریعے نوجوان نسل کو ایک نیا رومانوی لہجہ دیا، جہاں محبوب کوئی آسمانی مخلوق نہیں بلکہ اسی زمین کا چلتا پھرتا اور درد دینے والا انسان تھا۔ ان کا مجموعہ کلام 'عذابِ در بدر' اور 'خیمہِ جاں' اردو کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مجموعوں میں شمار ہوتے ہیں۔
"یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی"
لیکن محسن نقوی کی زندگی کا سفر صرف رومانوی غزلوں تک محدود نہیں رہا۔ جیسے جیسے پاکستان میں 80 اور 90 کی دہائیوں میں ضیاء الحق کی آمریت کے بعد فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کا زہر پھیلا، محسن نقوی کی شاعری کا لہجہ بدلتا گیا۔ انہوں نے ظالموں، منافقوں اور مذہب کے نام پر خون بہانے والے دہشت گردوں کے خلاف کھلم کھلا اور بے خوف ہو کر لکھنا شروع کر دیا۔ وہ مجالس میں جاتے اور امام حسین (ع) کی شہادت اور کربلا کے واقعے کو آج کے دور کے سیاسی اور سماجی حالات پر منطبق کرتے۔ انہوں نے اپنے مرثیوں، نوحوں اور سلاموں میں جس بے باکی سے باطل نظام کو للکارا، وہ انتہا پسندوں کی آنکھوں میں بری طرح کھٹکنے لگا۔ انہیں مسلسل دھمکیاں ملنے لگیں، لیکن محسن وہ شخص نہیں تھے جو موت کے ڈر سے حق بات کہنا چھوڑ دیتے۔ ان کا قلم تلوار سے زیادہ تیز ہو چکا تھا اور ان کی آواز ایک انقلاب بن چکی تھی۔
"مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر
یہ تری نوازشِ مختصر مرا درد اور بڑھا نہ دے
مرا دوست ہے تو جفا نہ کر مرا دل جلا کے ضیا نہ کر
کوئی بے وفائی کی بات کر کہ یہ پیار مجھ کو رلا نہ دے"
اور پھر وہ سیاہ دن آ گیا جس کا ڈر ان کے چاہنے والوں کو تھا۔ 15 جنوری 1996 کو لاہور کی مون مارکیٹ میں ان کے اپنے دفتر کے باہر، فرقہ وارانہ دہشت گردوں نے محسن نقوی پر گولیاں برسا دیں۔ ان کا جسم گولیوں سے چھلنی ہو گیا اور اردو ادب کا یہ حسین اور باغی شاعر اپنے ہی خون میں نہا کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گیا۔ محسن نقوی کی دردناک موت نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا، لیکن ان کے قاتل یہ بھول گئے تھے کہ جسموں کو مارنے سے افکار نہیں مرا کرتے۔ محسن نے اپنی زندگی میں جو کچھ لکھا، ان کی شہادت نے اس پر حق کی مہر ثبت کر دی۔ آج بھی محرم کی مجالس ہوں یا محبت کرنے والوں کی تنہا راتیں، محسن نقوی کی غزلیں اور ان کے سلام اسی طرح زندہ ہیں اور ظالموں کے چہروں پر ایک زوردار طمانچہ ہیں۔
Urdu adab ke sunehre daur ki kahaniyan, azeem shayaron ke posheeda qisse, aur unki zindagiyon ke naye pehlu ek hi jagah.
Background sound chalu rahega jab tak aap band na karein.
Test your knowledge of Urdu poetry! 10 random questions will be asked. Pass the test to earn a premium Certificate of Excellence.
Your Score: 10/10
Congratulations! You have earned the Certificate.
You need at least 7/10 to earn the certificate.
This proudly certifies that
has successfully demonstrated exceptional knowledge of Urdu literature, classical poetry, and Adab by passing the Aazmaish evaluation with distinction.
(Swipe left or right to see the full certificate)
Apna sher likhne par 20 pts, options chunne par 10 pts.
Aapka Score
Top 10 Khiladiyon Ka Darbar
'Save' karne par yeh sirf aapke phone mein rahega.
'Send' karne par Admin ke paas jayega.
Is lafz ki mukammal tareekh aur tafseel ke liye muntakhib karein:
Yeh sher kisko dedicate karna chahte hain?
Aapke liye ek sher bheja gaya hai...
Diwan E Sukhan ko ad-free aur azaad rakhne ki is adabi koshish mein humsafar banein. Aapka ta'awun qabil-e-qadar hai.
Diwan E Sukhan ke hazaron padhne walon tak apna paigham pohnchayein. Yeh khaas jagah premium brands aur karobar ke liye banayi gayi hai.
(TAP TO LEARN MORE!)
Ishtehaar Ke Liye Rabta Karein
Greetings. I am Athar Aalam. Diwan E Sukhan represents a delicate intersection of my core pursuits: the profound depths of classical Urdu poetry, the nuanced insights of human psychology, and the clean elegance of modern digital design. This platform is a humble endeavor to give aesthetic form to timeless emotions and wisdom.
Diwan E Sukhan ke hawale se apni koi tajweez (suggestion) dein ya apna likha hua kalaam website par shamil karne ke liye bhejein.