عبدالحئی، جنہیں دنیا ساحر لدھیانوی کے نام سے جانتی ہے، اردو ادب اور ہندوستانی سنیما کے ایک ایسے دیوقامت شاعر تھے جنہوں نے نہ کبھی حالات سے سمجھوتہ کیا اور نہ ہی اپنے اصولوں پر آنچ آنے دی۔ لدھیانہ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہونے والے ساحر نے اپنی ماں کی خاطر باپ کی دولت کو ٹھکرا دیا اور ممبئی کی سڑکوں پر ایک طویل جدوجہد کی۔ ساحر کی شاعری میں جو تلخی، بغاوت اور معاشرے کی ناانصافیوں کے خلاف غصہ نظر آتا ہے، وہ ان کے اپنے ذاتی تجربات کا نچوڑ تھا۔
ساحر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے بالی وڈ میں نغمہ نگار (Lyricist) کو وہ عزت دلائی جو اس سے پہلے کبھی کسی کو نہیں ملی تھی۔ اس دور میں موسیقار دھن بناتے تھے اور شاعر اس پر بول لکھتا تھا، لیکن ساحر نے اس روایت کو توڑ دیا۔ انہوں نے شرط رکھی کہ پہلے وہ گیت لکھیں گے اور موسیقار کو اس پر دھن بنانی پڑے گی۔ ساحر کی انا اور خودداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک بار آل انڈیا ریڈیو پر اپنے گانے بجانے سے اس لیے روک دیے تھے کیونکہ ریڈیو پر موسیقار کا نام تو لیا جاتا تھا لیکن گیت کار کا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ان کا معاوضہ لتا منگیشکر کی فیس سے ایک روپیہ زیادہ ہونا چاہیے۔
"تعارف روگ بن جائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا"
ساحر کی ذاتی زندگی اور ان کا عشق بھی ان کی شاعری کی طرح پراسرار اور گہرا تھا۔ مشہور پنجابی شاعرہ امرتا پریتم کے ساتھ ان کا رومانس ادبی دنیا کا سب سے مشہور قصہ ہے۔ دونوں گھنٹوں ایک دوسرے کے سامنے خاموش بیٹھے رہتے تھے۔ ساحر سگریٹ پر سگریٹ پیتے رہتے اور جب وہ چلے جاتے، تو امرتا ان کے سگریٹ کے بچے ہوئے ٹکڑوں (Butts) کو پی کر ساحر کی قربت محسوس کرتیں اور اپنی انگلیاں جلا لیتیں۔ باوجود اس بے پناہ محبت کے، ساحر اپنی ذات کے اندر اتنے تنہا اور الجھے ہوئے تھے کہ وہ کبھی اس محبت کو شادی کے رشتے میں نہ باندھ سکے۔
"اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق"
ساحر لدھیانوی رومانوی شاعری کے ساتھ ساتھ کڑوی حقیقتوں کے شاعر تھے۔ ان کی نظم 'تاج محل' اس بات کی بہترین مثال ہے جہاں انہوں نے محبت کی اس عظیم نشانی کو غریبوں کی محبت کا مذاق اڑانے سے تشبیہ دی۔ ساحر زندگی کے آخری ایام میں شدید تنہائی اور مایوسی کا شکار ہو گئے تھے۔ 59 سال کی عمر میں جب ان کا انتقال ہوا، تو وہ بے پناہ شہرت اور دولت تو رکھتے تھے، لیکن ان کے دل کا صحرا پیاسا ہی رہا۔ ان کی لکھی ہوئی نظمیں اور گیت آج بھی معاشرے کے تلخ حقائق کا آئینہ ہیں۔