ثانیہ قیام الدین مستری، جو اپنے اسٹیج نام ثانیہ ایم کیو (Saniya MQ) سے مشہور ہیں، ممبئی کے علاقے گوونڈی کی ایک انتہائی باصلاحیت نوجوان ریپر، پرفارمر اور شاعرہ ہیں۔ نوجوانوں کی ایک مضبوط آواز کے طور پر ابھرتے ہوئے، انہوں نے روایتی اردو شاعری، نظم اور جدید ہپ ہاپ کے درمیان ایک شاندار پل قائم کیا ہے۔ اپنی اردو کی کتابوں کے پیچھے اشعار لکھنے اور چائے چھاننے والی چھلنی کو مائیک کا فلٹر بنا کر اپنا پہلا ریپ ریکارڈ کرنے سے لے کر، ثانیہ نے بے شمار فرسودہ روایات کو توڑ کر انڈین ہپ ہاپ اور پوئٹری انڈسٹری میں اپنی ایک الگ جگہ بنائی ہے۔
میڈیا کی جانب سے "گلی گرل" کا لقب پانے والی ثانیہ (جو کہ اپنی ایک منفرد اور آزاد شناخت بنانے پر زور دیتی ہیں)، یہ ثابت کرتی ہیں کہ ریپ کا تعلق مخصوص لباس یا بھاری زنجیریں پہننے سے نہیں، بلکہ یہ سچائی، بے باکی اور تال کا نام ہے۔ ان کی شاعری کے بول غربت، پدری نظام (Patriarchy)، فرقہ واریت اور ممبئی کی کچی آبادیوں کے ان کہے مسائل جیسے سنجیدہ سماجی موضوعات پر براہ راست چوٹ کرتے ہیں۔ 'سچ'، 'ہم'، 'زمانہ' اور 'مایا نگری' جیسے طاقتور گانوں، اور حال ہی میں مشہور ہپ ہاپ شو 'لیگیسی' (LEGACY) سمیت 'اسپوکن فیسٹ ممبئی' (Spoken Fest) جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر اپنی لائیو پرفارمنس کے ذریعے، انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سچا ٹیلنٹ کسی بھی روایتی سوچ کا محتاج نہیں ہوتا۔
"سر ڈھک کے چلنے والی نکلی ہیں سر اٹھانے
اب کیا ہی کر سکو گے جو چاہے کر زمانے"
ثانیہ کا فن جدوجہد، سماجی شعور اور خود ارادیت کی ایک زندہ مثال ہے۔ ایشیا کے سب سے بڑے ہپ ہاپ اسکول 'دی دھاراوی ڈریم پروجیکٹ' (The Dharavi Dream Project) کی طالبہ کے طور پر، وہ مسلسل اپنے فن کو نکھار رہی ہیں۔ ان کی شاعری اور ریپ ان سڑکوں کی حقیقت بیان کرتے ہیں جنہیں معاشرہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ثانیہ ایم کیو آج محض ایک فنکارہ نہیں ہیں، بلکہ الفاظ کا ایک ایسا انقلاب ہیں، جو اس نسل کی ترجمانی کر رہا ہے جو اپنی شرائط پر جینا اور اپنی کہانی خود سنانا چاہتی ہے۔